ابنا: ماسکو پہنچنے پر اعلي روسي حکام نے ان کا خير مقدم کيا- اس موقع پر ماسکو ميں مقيم ايراني سفير اور سفارتي عملے کے ارکان بھي موجود تھے-ماسکو روانگي سے قبل تہران ايئر پورٹ پر صحافيوں سے بات چيت کرتے ہوئے صدر احمدي نژاد نے کہا ہےکہ اس تنظيم کا قيام بہت ضروري تھا اور ايران نے اس کي تشکيل ميں بھرپور کردار ادا کيا ہے- ڈاکٹر احمدي نژاد کا کہنا تھا کہ اقتصادي اور سياسي معاملات ميں توانائي کا کردار انتہائي اہميت کا حامل ہے-انہوں نے کہا کہ فوسل فيول کي پيداوار، طلب و رسد کے درميان توازن شروع ہي سے عالمي اقتصادي اور سياسي معاملات پر اثرانداز ہوتا رہا ہے-گيس برآمد کرنے والے ملکوں کي تنظيم کے دوسرے سربراہي اجلاس ميں گيس انڈسٹري کي موجودہ صورتحال، عالمي اقتصادي بحران اور عالمي منڈي ميں گيس کي طلب ميں ہونے والے اضافے پر غور کيا جائے گا- اسلامي جمہوريہ ايران، الجزائر، بوليويا، مصر، استوائي گني، ليبيا، نائيجيريا، قطر، روس، ٹرينيڈاڈ، ٹوبيکو، وينيز ويلا اور عمان ، اس تنطيم کي مجلس عاملہ کے رکن ہيں-ہالينڈ، قزاقستان اور ناروے کو مبصر کا درجہ ديئے جانے کا امکان ہے جبکہ عراق بھي مبصر کي حثيت سے اس تنظيم ميں شامل ہوگيا ہے....../169
30 جون 2013 - 19:30
News ID: 435728
صدر مملکت ڈاکثرمحمود احمدي نژاد گيس برآمد کرنےوالے ملکوں کي تنظيم جي اي سي ايف کے سربراہي اجلاس ميں شرکت کے لئے ماسکو پہنچ گئے ہيں-